کلامِ حسرتردیف ے

قسمت شوق آزما نہ سکے

۱

قسمت شوق آزما نہ سکےان سے ہم آنکھ بھی ملا نہ سکے

۲

ہم سے یاں رنج ہجر اٹھ نہ سکاواں وہ مجبور تھے وہ آ نہ سکے

۳

ڈر یہ تھا رو نہ دیں کہیں وہ انہیںہم ہنسی میں بھی گدگدا نہ سکے

۴

ہم سے دل آپ نے اٹھا تو لیاپر کہیں اور بھی لگا نہ سکے

۵

اب کہاں تم کہاں وہ ربط وفایاد بھی جس کی ہم دلا نہ سکے

۶

دل میں کیا کیا تھے عرض حال کے شوقاس نے پوچھا تو کچھ بتا نہ سکے

۷

ہم تو کیا بھولتے انہیں حسرتؔدل سے وہ بھی ہمیں بھلا نہ سکے

۶۴ / ۷۹