کلامِ حسرتردیف ے
مستی کے پھر آ گئے زمانے
۱
مستی کے پھر آ گئے زمانےآباد ہوئے شراب خانے
۲
ہر پھول چمن میں زر بہ کف ہےبانٹے ہیں بہار نے خزانے
۳
سب ہنس پڑے کھلکھلا کے غنچےچھیڑا جو لطیفہ صبا نے
۴
سر سبز ہوا نہالِ غم بھیپیدا وہ اثر کیا ہوا نے
۵
رندوں نے پچھاڑ کر پلا دیواعظ کے نہ چل سکے بہانے
۶
کر دوں گا میں ہر ولی کو میخوارتوفیق جو دی مجھے خدا نے
۷
ہم نے تو نثار کر دیا دلاب جانے وہ شوخ یا نہ جانے
۸
بیگانۂ مئے کیا ہے مجھ کوساقی کی نگاہِ آشنا نے
۹
مسکن ہے قفس میں بُلبلوں کاویراں پڑے ہیں آشیانے
۱۰
اب کاہے کو آئیں گے وہ حسرتؔآغازِ جنوں کے پھر زمانے
۶۵ / ۷۹