کلامِ حسرتردیف ے

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

۱

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

۲

دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزادترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

۳

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

۴

ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھیمجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے

۵

غم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہشوہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے

۶

امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہتری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے

۷

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔاب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

۷۲ / ۷۹