کلامِ حسرتردیف ے

ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے

۱

ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھےمایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھے

۲

ہر نغمے نے انہیں کی طلب کا دیا پیامہر ساز نے انہیں کی سنائی صدا مجھے

۳

ہر بات میں انہیں کی خوشی کا رہا خیالہر کام سے غرض ہے انہیں کی رضا مجھے

۴

رہتا ہوں غرق ان کے تصور میں روز و شبمستی کا پڑ گیا ہے کچھ ایسا مزا مجھے

۵

رکھیے نہ مجھ پہ ترک محبت کی تہمتیںجس کا خیال تک بھی نہیں ہے روا مجھے

۶

کافی ہے ان کے پائے حنابستہ کا خیالہاتھ آئی خوب سوز جگر کی دوا مجھے

۷

کیا کہتے ہو کہ اور لگا لو کسی سے دلتم سا نظر بھی آئے کوئی دوسرا مجھے

۸

بیگانۂ ادب کیے دیتی ہے کیا کروںاس محو ناز کی نگۂ آشنا مجھے

۹

اس بے نشاں کے ملنے کی حسرتؔ ہوئی امیدآب بقا سے بڑھ کے ہے زہر فنا مجھے

۷۳ / ۷۹