کلامِ حسرتردیف ے
ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے
۱
ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتےوہ تم کچھ نہ کرتے مگر دیکھ لیتے
۲
نہ کرتے کبھی خواہش سیر جنتجو واعظ ترا رہ گزر دیکھ لیتے
۳
رسائی کہاں بزم دشمن میں اپنیکہ ہم بھی انہیں اک نظر دیکھ لیتے
۴
تمنا کو پھر کچھ شکایت نہ رہتیجو تم بھول کر بھی ادھر دیکھ لیتے
۵
نہ رہتی خبر دین و دنیا کی حسرتؔجو سوتے انہیں بے خبر دیکھ لیتے
۷۴ / ۷۹