کلامِ حسرتردیف ے

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے

۱

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتےکہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے

۲

مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہےترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے

۳

شب غم کس آرام سے سو گئے ہیںفسانہ تری یاد کا کہتے کہتے

۴

یہ کیا پڑ گئی خوئے دشنام تم کومجھے ناسزا برملا کہتے کہتے

۵

خبر ان کو اب تک نہیں مر مٹے ہمدل زار کا ماجرا کہتے کہتے

۶

عجب کیا جو ہے بدگماں سب سے واعظبرا سنتے سنتے برا کہتے کہتے

۷

وہ آئے مگر آئے کس وقت حسرتؔکہ ہم چل بسے مرحبا کہتے کہتے

۷۵ / ۷۹