کلامِ حسرتردیف ے
یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے
۱
یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزےدل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزے
۲
وہ سراپا ناز تھا ،بے گانۂ رسمِ جفااور مجھے حاصل تھے لطفِ بے نہایت کے مزے
۳
حسن سے اپنے وہ غافل تھا، میں اپنے عشق سےاب کہاں سے لاؤں وہ نا واقفیت کے مزے
۴
میری جانب سے نگاہِ شوق کی گُستاخیاںیار کی جانب سے آغازِ شرارت کے مزے
۵
یاد ہیں وہ حسن و الفت کی نرالی شوخیاںالتماسِ عذر و تمہیدِ شکایت کے مزے
۶
صحتیں لاکھوں مری بیماریِ غم پر نثارجس میں اٹھے بار ہا ان کی عیادت کے مزے
۷۶ / ۷۹