کلامِ حسرتردیف ے

پھر یاد جو آئی ہے مدینے کی بلانے

۱

پھر یاد جو آئی ہے، مدینے کو بلانےکیا یاد کیا پھر مجھے شاہ دو سرا نے

۲

ایسا ہے تو پھر فکر ہے کیوں زاد سفر کیکیا غیب کے کھل جائیں گے مجھ پر، نہ خزانے

۳

میں غلبئہ اعداد سے ڈرا ہوں ، نہ ڈروں گایہ حوصلہ بخشا ہے مجھے شیر خدا نے

۴

تھا شب کو جو میں حاضر دربار محمدچھوڑا ہے اثر دل پہ عجب اس کی فضا نے

۵

حسرت مجھے اس جاں جہاں سے ہے تعلقسمجھے کہ نہ سمجھے کوئی، جانے کہ جانے کوئی

۷۷ / ۷۹