کلامِ حسرتردیف ج

رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج

۱

رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آجبھر گئیں سیرابیوں سے محفل رندانہ آج

۲

بسکہ زیب محفل ہے وہ جلوہ جانانہ آجہے سراپا آرزو ہر عاشق دیوانہ آج

۳

یہ ہوا بے تابیوں پر نشۂ مے کا اثرکہہ دیا سب ان سے حال شوق گستاخانہ آج

۴

رشک سے مٹ مٹ گئے ہم تشنہ کا مان وصالجب ملا لب ہائے ساقی سے لب پیمانہ آج

۵

ہے فروغ بزم یکتائی جو وہ شمع جمالیآ گئی ہے دل میں بھی تابی پروانہ آج

۶

ہیں سرور و وصل سے لبریز مشتاقوں کے دلکر رہی ہیں آرزوئیں سجدۂ شکرانہ آج

۷

حسرتیں دل کی ہوئی جاتی ہیں پامال نشاطہے جو وہ جان تمنا رونق کاشانہ آج

۸

غرق ہے رنگنیوں میں مستیوں سے چور چورہے سراپا بے خودی وہ نرگس مستانہ آج

۹

میہمانِ خانۂ دل ہے جو وہ رشک بہارہو گیا ہے غیرت فردوس یہ ویرانہ آج

۱۰

مل گیا اچھا سہارا عذر مستی کا ہمیںلے لیا آغوش میں اس گل کو بے باکانہ آج

۱۱

خم لگا دے ہم بلا نوشوں کے منہ سے ساقیاکام آئے گا نہ ساگر آج نے پیمانہ آج

۱۲

دیکھئیے اب رنگ کیا لائے وہ حسن دلفریبآئینہ پیش نظر ہے ہاتھ میں ہے کاشانہ آج

۱۳

میں ہی اے حسرت نہیں محو جمال روئے یارپڑ رہی ہیں سب کی نگاہیں وہ مشتاقانہ آج

۱۵ / ۷۹