کلامِ حسرتردیف ی

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی

۱

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کیاڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی

۲

خو ہے از بس کہ عاشقی دل کیغم سے وابستہ ہے خوشی دل کی

۳

یاد ہر حال میں رہے وہ مجھےالغرض بات رہ گئی دل کی

۴

مل چکی ہم کو ان سے داد وفاجو نہیں جانتے لگی دل کی

۵

چین سے محو خواب ناز میں وہبیکلی ہم نے دیکھ لی دل کی

۶

ہمہ تن صرف ہوشیارئ عشقکچھ عجب شے ہے بے خودی دل کی

۷

ان سے کچھ تو ملا وہ غم ہی سہیآبرو کچھ تو رہ گئی دل کی

۸

مر مٹے ہم نہ ہو سکی پوریآرزو تم سے ایک بھی دل کی

۹

وہ جو بگڑے رقیب سے حسرتؔاور بھی بات بن گئی دل کی

۴۱ / ۷۹