کلامِ حسرتردیف ہ
گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ
۱
گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہبڑھے گا عاشقی کا اعتبار آہستہ آہستہ
۲
بہت نادم ہوئے آخر وہ میرے قتل ناحق پرہوئی قدر وفا جب آشکار آہستہ آہستہ
۳
جلائے شوق سے آئینہ تصویر خاطر میںنمایاں ہو چلا روئے نگار آہستہ آہستہ
۴
محبت کی جو پھیلی ہے یہ نکہت باغ عالم میںہوئی ہے منتشر خوشبوئے یار آہستہ آہستہ
۵
دل و جان و جگر صبر و خرد جو کچھ ہے پاس اپنےیہ سب کر دیں گے ہم ان پر نثار آہستہ آہستہ
۶
عجب کچھ حال ہو جاتا ہے اپنا بے قراری سےبجاتے ہیں کبھی جب وہ ستار آہستہ آہستہ
۷
اثر کچھ کچھ رہے گا وصل میں بھی رنج فرقت کادل مضطر کو آئے گا قرار آہستہ آہستہ
۸
نہ آئیں گے وہ حسرتؔ انتظار شوق میں یوں ہیگزر جائیں گے ایام بہار آہستہ آہستہ
۴۰ / ۷۹