کلامِ حسرتردیف ی
آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی
۱
آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازیمعلوم ہوئی راہ محبت کی درازی
۲
کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیںاک یہ بھی تمنا کی نہ ہو شعبدہ بازی
۳
دل خوب سمجھتا ہے ترے حرف کرم کوہر چند وہ اردو ہے نہ ترکی ہے نہ تازی
۴
قائم ہے نہ وہ حسن رخ یار کا عالمباقی ہے نہ وہ شوق کی ہنگامہ نوازی
۵
اے عشق تری فتح بہرحال ہے ثابتمر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی
۶
کر جلد ہمیں ختم کہیں اے غم جاناںکام آئے گی کس روز تری سینہ گدازی
۷
معلوم ہے دنیا کو یہ حسرتؔ کی حقیقتخلوت میں وہ مے خوار ہے جلوت میں نمازی
۴۲ / ۷۹