کلامِ حسرتردیف ی
ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی
ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکیہم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہ ہو سکی
شکر جفا بھی اہل رضا نے کیا اداان سے یہی نہیں کہ شکایت نہ ہو سکی
شب کا یہ حال ہے کہ تری یاد کے سوادل کو کسی خیال سے راحت نہ ہو سکی
پابوس کی بھی ہم کو اجازت نہ دے سکےاتنی بھی تم سے قدر محبت نہ ہو سکی
غرق سرور و سور مجھے پا کے دفعتاًناصح سے ترک مے کی نصیحت نہ ہو سکی
خاموشیوں کا راز محبت وہ پا گئےگو ہم سے عرض حال کی جرأت نہ ہو سکی
کر دی زبان شوق نے سب شرح آرزوالفاظ میں اگرچہ صراحت نہ ہو سکی
لطف مزید کی میں تمنا تو کر سکاتم یہ تو کہہ سکے کہ قناعت نہ ہو سکی
کیوں اتنی جلد ہو گئے گھبرا کے ہم فنااے درد یار کچھ تری خدمت نہ ہو سکی
واعظ کو اپنے عیب ریا کا رہا خیالرندوں کی صاف صاف مذمت نہ ہو سکی
ارباب قال حال پہ غالب نہ آ سکےزاہد سے عاشقوں کی امامت نہ ہو سکی
ایسا بھی کیا عتاب کہ ساقی بچی کھچیآخر میں کچھ بھی ہم کو عنایت نہ ہو سکی
ان سے میں اپنے دل کا تقاضا نہ کر سکایہ بات تھی خلاف مروت نہ ہو سکی
کیوں آئے ہوش میں جو عبادت نہ کر سکےپیر مغاں کی ہم سے اطاعت نہ ہو سکی
حسرتؔ تری نگاہ محبت کو کیا کہوںمحفل میں رات ان سے شرارت نہ ہو سکی
۴۳ / ۷۹