کلامِ حسرتردیف ی
برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کی
۱
برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کیواہ کیا بات ہے اس چہرۂ نورانی کی
۲
شوق دیکھے تجھے کس آنکھ سے اے مہر جمالکچھ نہایت ہی نہیں تیری درخشانی کی
۳
مجھ سے وہ سگ بھی ہے افضل جسے عزت ہو نصیبآستان حرم یار پہ دربانی کی
۴
جب سنا یاد کیا کرتے ہو تم بھی تو مجھےکیا کہوں حد نہ رہی کچھ مری حیرانی کی
۵
سعئ احباب کو ناحق ہے رہائی کا خیالاور ہی کچھ ہے تمنا ترے زندانی کی
۶
وہ تبسم بھی قیامت ہے ترا بعد جفاتو نے دی ہو جسے خدمت نمک افشانی کی
۷
مشکلوں سے جو مقابل ہوئی ہمت میریقدر باقی نہ رہی عیش تن آسانی کی
۸
رہ گیا جل کے تری بزم میں پروانہ جو راتکھینچ گئی شکل مری سوختہ سامانی کی
۹
رشک شاہی ہو نہ کیوں اپنی فقیری حسرتؔکب سے کرتے ہیں غلامی شہ جیلانیؔ کی
۴۴ / ۷۹