کلامِ حسرتردیف ی
تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
۱
تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھیاک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی
۲
واں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئی نصیبآسودگی کی جان تری انجمن میں تھی
۳
اک رنگ التفات بھی اس بے رخی میں تھااک سادگی بھی اس نگہ سحر فن میں تھی
۴
محتاج بوئے عطر نہ تھا جسم خوب یارخوشبوئے دلبری تھی جو اس پیرہن میں تھی
۵
کچھ دل ہی بجھ گیا ہے مرا ورنہ آج کلکیفیت بہار کی شدت چمن میں تھی
۶
معلوم ہو گئی مرے دل کو راہ شوقوہ بات پیار کی جو ہنوز اس دہن میں تھی
۷
غربت کی صبح میں بھی نہیں ہے وہ روشنیجو روشنی کہ شام سواد وطن میں تھی
۸
عیش گداز دل بھی غم عاشقی میں تھااک راحت لطیف بھی ضمن محن میں تھی
۹
اچھا ہوا کہ خاطر حسرتؔ سے ہٹ گئیہیبت سی اک جو خطرۂ دار و رسن میں تھی
۴۶ / ۷۹