کلامِ حسرتردیف ی

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی

۱

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کیدامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی

۲

جلوۂ ساغر و مینا ہے جو ہمرنگ بہاررونقیں طرفہ ترقی پہ ہیں مے خانوں کی

۳

ہر طرف بے خودی و بے خبری کی ہے نمودقابل دید ہے دنیا ترے حیرانوں کی

۴

سہل اس سے تو یہی ہے کہ سنبھالیں دل کومنتیں کون کرے آپ کے دربانوں کی

۵

آنکھ والے تری صورت پہ مٹے جاتے ہیںشمع محفل کی طرف بھیڑ ہے پروانوں کی

۶

اے جفاکار ترے عہد سے پہلے تو نہ تھیکثرت اس درجہ محبت کے پشیمانوں کی

۷

راز غم سے ہمیں آگاہ کیا خوب کیاکچھ نہایت ہی نہیں آپ کے احسانوں کی

۸

دشمن اہل مروت ہے وہ بیگانۂ انسشکل پریوں کی ہے خو بھی نہیں انسانوں کی

۹

ہم رہ غیر مبارک انہیں گلگشت چمنسیر ہم کو بھی میسر ہے بیابانوں کی

۱۰

اک بکھیڑا ہے نظر میں سر و سامان وجوداب یہ حالت ہے ترے سوختہ سامانوں کی

۱۱

فیض ساقی کی عجب دھوم ہے مے خانوں میںہر طرف مے کی طلب مانگ ہے پیمانوں کی

۱۲

عاشقوں ہی کا جگر ہے کہ ہیں خرسند جفاکافروں کی ہے یہ ہمت نہ مسلمانوں کی

۱۳

یاد پھر تازہ ہوئی حال سے تیرے حسرتؔقیس و فرہاد کے گزرے ہوئے افسانوں کی

۴۷ / ۷۹