کلامِ حسرتردیف ی
درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
۱
درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئیکوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی
۲
کوششیں ہم نے کیں ہزار مگرعشق میں ایک معتبر نہ ہوئی
۳
کر چکے ہم کو بے گناہ شہیدآپ کی آنکھ پھر بھی تر نہ ہوئی
۴
نارسا آہ عاشقاں وہ کہاںدور ان سے جو بے اثر نہ ہوئی
۵
آئی بجھنے کو اپنی شمع حیاتشب غم کی مگر سحر نہ ہوئی
۶
شب تھے ہم گرم نالہ ہائے فراقصبح اک آہ سرد سر نہ ہوئی
۷
تم سے کیونکر وہ چھپ سکے حسرتؔنگہ شوق پردہ در نہ ہوئی
۴۸ / ۷۹