کلامِ حسرتردیف ی

دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی

۱

دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئیروبرو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئی

۲

ہم رضا شیوہ ہیں تاویل ستم خود کر لیںکیا ہوا ان سے اگر بات بنائی نہ گئی

۳

یہ بھی آداب محبت نے گوارا نہ کیاان کی تصویر بھی آنکھوں سے لگائی نہ گئی

۴

آہ وہ آنکھ جو ہر سمت رہی صاعقہ پاشوہ جو مجھ سے کسی عنوان ملائی نہ گئی

۵

ہم سے پوچھا نہ گیا نام و نشاں بھی ان کاجستجو کی کوئی تمہید اٹھائی نہ گئی

۶

دل کو تھا حوصلۂ عرض تمنا سو انہیںسرگزشت شب ہجراں بھی سنائی نہ گئی

۷

غم دوری نے کشاکش تو بہت کی لیکنیاد ان کی دل حسرتؔ سے بھلائی نہ گئی

۴۹ / ۷۹