کلامِ حسرتردیف ی
چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
۱
چھپ کے اس نے جو خود نمائی کیانتہا تھی یہ دل ربائی کی
۲
مائلِ غمزہ ہے وہ چشمِ سیاہاب نہیں خیر پارسائی کی
۳
دام سے اُس کے چھوٹنا تو کہاںیاں ہوس بھی نہیں رہائی کی
۴
ہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموشصلح میں شان ہے لڑائی کی
۵
اس تغافل شعار سے حسرتہم میں طاقت نہیں جدائی کی
۵۰ / ۷۹