کلامِ حسرتردیف ی
نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھی
۱
نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھیبہت سیر دنیائے فانی کی دیکھی
۲
مری چشم خوں بار میں خوب رہ کربہار آپ نے گل فشانی کی دیکھی
۳
تمنا نے اس روئے زیبا کو دیکھاکہ تصویر حسن جوانی کی دیکھی
۴
عجب شوق سے دست ساقی میں ہم نےصراحی مئے ارغوانی کی دیکھی
۵
زہے رعب حسن ان کے در پر کسی نےضرورت نہ کچھ پاسبانی کی دیکھی
۶
نہ تم سا خوش اخلاق پایا نہ ہم نےکہیں شان یہ دل ستانی کی دیکھی
۷
مجھے کر کے مایوس بولے وہ حسرتؔمسرت غم جاودانی کی دیکھی
۵۱ / ۷۹