کلامِ حسرتردیف و
نہ سمجھے دل فریب آرزو کو
۱
نہ سمجھے دل فریب آرزو کونہ ہم چھوڑیں تمہاری جستجو کو
۲
تری تلوار سے اے شاہ خوباںمحبت ہو گئی ہے ہر گلو کو
۳
وہ منکر ہو نہیں سکتا فسوں کاسنا ہو جس نے تیری گفتگو کو
۴
تغافل اس کو کہتے ہیں کہ اس نےمجھے دیکھا نہ محفل میں عدو کو
۵
نہیں پانی تو مے خانے میں اے شیخجو کچھ موجود ہے لاؤں وضو کو
۶
سمجھتا ہی نہیں ہے کچھ وہ بد خونہ خود مجھ کو نہ میری آرزو کو
۷
نہ بھولا گھر کے اعدا میں بھی حسرتؔترے فرمودۂ لاتقنطو کو
۳۹ / ۷۹