کلامِ حسرتردیف ز
وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز
۱
وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے نازاک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے ناز
۲
اُس نازنیں پہ ختم ہیں سب شیوہ ہائے نازجس کو بنا کے خود بھی ہے نازاں خدائے ناز
۳
کیا کیا نہ آرزو کے بڑھیں دل میں حوصلےرکھ دیں کبھی جو فرقِ ہوس پردہ پائے ناز
۴
اربابِ اشتیاق ہیں اور انتہائے شوقحالانکہ حُسن یار ہے اور ابتدائے ناز
۵
کچھ یوں ہی اپنے حُسن پر مغرور تھا وہ شوخکچھ لے اُڑی ہے اور بھی اسکو ہوائے ناز
۱۶ / ۷۹