کلامِ حسرتردیف ک
محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک
۱
محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تکباقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تک
۲
وصل اس بت بد خو کا میسر نہیں ہوتاوابستۂ تقدیر ہے تدبیر ابھی تک
۳
اک بار سنی تھی سو مرے دل میں ہے موجوداے جان تمنا تری تقریر ابھی تک
۴
سیکھی تھی جو آغاز محبت میں قلم نےباقی ہے وہ رنگینئ تحریر ابھی تک
۵
اس درجہ نہ بیتاب ہو اے شوق شہادتہے میان میں اس شوخ کی شمشیر ابھی تک
۶
کہنے کو تو میں بھول گیا ہوں مگر اے یارہے خانۂ دل میں تری تصویر ابھی تک
۷
بھولی نہیں دل کو تری دزدیدہ نگاہیپہلو میں ہے کچھ کچھ خلش تیر ابھی تک
۸
تھے حق پہ وہ بے شک کہ نہ ہوتے تو نہ ہوتادنیا میں بپا ماتم شبیرؔ ابھی تک
۹
گزرے بہت استاد مگر رنگ اثر میںبے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک
۱۸ / ۷۹