کلامِ حسرتردیف ک

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک

۱

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیککچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک

۲

کچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کیشاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک

۳

یوں غیر سے بے باک اشارے سر محفلکیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک

۴

عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کییا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک

۵

اگلی سی نہ راتیں ہیں نہ گھاتیں ہیں نہ باتیںکیا اب میں وہ حسرتؔ ہی نہیں آپ کے نزدیک

۱۹ / ۷۹