کلامِ حسرتردیف س
بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس
۱
بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوساب ہوں میں اور بے دلی کی ہوس
۲
کہ رہے دل نہ بے قراریِ دلعاشقی ہو نہ عاشقی کی ہوس
۳
وہ ستمگر بھی ہے عجیب کوئیکیوں ہوئی دل کو پھر اسی کی ہوس
۴
پھرتی رہتی ہے آدمی کو لئےخوار دنیا میں آدمی کی ہوس
۵
دونوں یکساں ہیں بے خودی میں ہمیںفکرِ غم ہے نہ خمریِ کی ہوس
۶
واقفِ لذّتِ جنوں جو ہوانہ رہی اس کو آگہی کی ہوس
۷
ان کو دیکھا ہے جب سے گرمِ عتابآرزو کو ہے خود کشی کی ہوس
۸
کر سکیں بھی تو ہم فقیر ترےنہ کریں تاجِ خسرویِ کی ہوس
۹
ہجرِ ساقی کے دور میں حسرتاب نہ مے ہے نہ مے کشی کی ہوس
۱۷ / ۷۹