کلامِ حسرتردیف م
سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہم
۱
سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہمترے عشق میں کیا سے کیا ہو گئے ہم
۲
نہ جانا کہ شوق اور بھڑکے گا میراوہ سمجھے کہ اس سے جدا ہو گئے ہم
۳
دم واپسیں آئے پرسش کو ناحقبس اب جاؤ تم سے خفا ہو گئے ہم
۴
ہوئے محو کس کی تمنا میں ایسےکہ مستغنئ ماسوا ہو گئے ہم
۵
انہیں رنج اب کیوں ہوا ہم تو خوش ہیںکہ مر کر شہید وفا ہو گئے ہم
۶
جب ان سے ادب نے نہ کچھ منہ سے مانگاتو اک پیکر التجا ہو گئے ہم
۷
تری فکر کا مبتلا ہو گیا دلمگر قید غم سے رہا ہو گئے ہم
۸
فنا ہو کے راہ محبت میں حسرتؔسزاوار خلد بقا ہو گئے ہم
۲۴ / ۷۹