کلامِ حسرتردیف ن
اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
۱
اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروںبگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروں
۲
دنیا ہے کہ ان کے رخ و گیسو پہ مٹی ہےحیران ہزاروں ہیں پریشان ہزاروں
۳
تنہائی میں بھی تیرے تصور کی بدولتدل بستگئ غم کے ہیں سامان ہزاروں
۴
اے شوق تری پستئ ہمت کا برا ہومشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہزاروں
۵
آنکھوں نے تجھے دیکھ لیا اب انہیں کیا غمحالانکہ ابھی دل کو ہیں ارمان ہزاروں
۶
چھانے ہیں ترے عشق میں آشفتہ سری نےدنیائے مصیبت کے بیابان ہزاروں
۷
اک بار تھا سر گردن حسرتؔ پہ رہیں گےقاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں
۲۵ / ۷۹