کلامِ حسرتردیف ن

بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں

۱

بدل لذت آزار کہاں سے لاؤںاب تجھے اے ستم یار کہاں سے لاؤں

۲

پرسش حال پہ ہے خاطر جاناں مائلجرأت کوشش اظہار کہاں سے لاؤں

۳

ہے وہاں شان تغافل کو جفا سے بھی گریزالتفات نگہ یار کہاں سے لاؤں

۴

نور عنقا ہے شب ہجر کی تاریکی میںجلوۂ صبح کے آثار کہاں سے لاؤں

۵

صحبت اہل صفا خوب ہے مانا لیکنرونق خانۂ خمار کہاں سے لاؤں

۶

شعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔمیرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں

۲۶ / ۷۹