کلامِ حسرتردیف ن
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
۱
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیںالٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں
۲
نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانےشراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں
۳
رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامیوہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں
۴
نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتیمگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
۵
حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کیتجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
۲۷ / ۷۹