کلامِ حسرتردیف ن
جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں
۱
جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیںوہ کچھ اور بھی یاد آتے رہے ہیں
۲
انہیں حال دل ہم سناتے رہے ہیںوہ خاموش زلفیں بناتے رہے ہیں
۳
محبت کی تاریکی یاس میں بھیچراغ ہوس جھلملاتے رہے ہیں
۴
جفا کار کہتے رہے ہیں جنہیں ہمانہیں کی طرف پھر بھی جاتے رہے ہیں
۵
وہ سوتے رہے ہیں الگ ہم سے جب تکمسلسل ہم آنسو بھاتے رہے ہیں
۶
بگڑ کر جب آئے ہیں ان سے تو آخرانہیں کو ہم الٹے مناتے رہے ہیں
۷
وہ سنتے رہے مجھ سے افسانہ غممگر یہ بھی ہے مسکراتے رہے ہیں
۸
نہ ہم ہیں نہ ہم تھے ہوس کار حسرتوہ ناحق ہمیں آزماتے رہے ہیں
۲۸ / ۷۹