کلامِ حسرتردیف ن

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

۱

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیںدل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

۲

عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہواشوق کی بے قراریاں نہ گئیں

۳

دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیںشب کی اختر شماریاں نہ گئیں

۴

ہوش یاں سد راہ علم رہاعقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں

۵

تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستمدل کی امیدواریاں نہ گئیں

۶

حسن جب تک رہا نظارہ فروشصبر کی شرمساریاں نہ گئیں

۷

طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔتیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں

۲۹ / ۷۹