کلامِ حسرتردیف ن
سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں
۱
سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریںسیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریں
۲
اب تو آتا ہے یہی جی میں کہ اے محو جفاکچھ بھی ہو جائے مگر تری تمنّا نہ کریں
۳
میں ہوں مجبور تو مجبور کی پرسش ہے ضروروہ مسیحا ہیں تو بیمار کو اچھا نہ کریں
۴
دردِ دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے کہیںآپ اس کام کا زنہار ارادہ نہ کریں
۵
شکوۂ جور تقاضائے کرم عرض وفاتم جو مل جاؤ کہیں ہم کو تو کیا کیا نہ کریں
۶
نورِ جاں کے لئے کیوں ہو کسی کامل کی تلاشہم تری صورت زیبا کا تماشا نہ کریں
۷
حال کھل جائے گا بیتابیِ دل کا حسرتبار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں
۳۰ / ۷۹