کلامِ حسرتردیف ن

لطف کی ان سے التجا نہ کریں

۱

لطف کی ان سے التجا نہ کریںہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں

۲

مل رہے گا جو ان سے ملنا ہےلب کو شرمندۂ دعا نہ کریں

۳

صبر مشکل ہے آرزو بے کارکیا کریں عاشقی میں کیا نہ کریں

۴

مسلک عشق میں ہے فکر حرامدل کو تدبیرآشنا نہ کریں

۵

بھول ہی جائیں ہم کو یہ تو نہ ہولوگ میرے لیے دعا نہ کریں

۶

مرضئ یار کے خلاف نہ ہوکون کہتا ہے وہ جفا نہ کریں

۷

شوق ان کا سو مٹ چکا حسرتؔکیا کریں ہم اگر وفا نہ کریں

۳۱ / ۷۹