کلامِ حسرتردیف ن

پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں

۱

پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیںہم تیری راہ محبت میں فنا ہوتے ہیں

۲

شرم کر شرم کہ اے جذبۂ تاثیر وفاتیرے ہاتھوں وہ پشیمان جفا ہوتے ہیں

۳

چھیڑتی ہے مجھے بیباکئ خواہش کیا کیاجب کبھی ہاتھ وہ پابند حنا ہوتے ہیں

۴

نہ اثر آہ میں کچھ ہے نہ دعا میں تاثیرتیر ہم جتنے چلاتے ہیں خطا ہوتے ہیں

۵

اہل دل سنتے ہیں اک ساز محبت کی نواہم تری یاد میں جب نغمہ سرا ہوتے ہیں

۶

لذت درد نہ کیوں اہل ہوس پر ہو حرامکہ وہ کم بخت طلب گار دوا ہوتے ہیں

۷

کشور عشق میں دنیا سے نرالا ہے رواجکام جو بن نہ پڑیں یاں وہ روا ہوتے ہیں

۸

ہیچ ہم سمجھے دو عالم کو تو حیرت کیا ہےرتبے عشاق کے اس سے بھی سوا ہوتے ہیں

۹

جسم ہوتا ہے جدا جان سے گویا حسرتؔآسماں ان سے چھڑاتا ہے جدا ہوتے ہیں

۳۲ / ۷۹