کلامِ حسرتردیف ن

کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں

۱

کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروںدل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروں

۲

غیر ہے گرچہ ہمنشیں، بزم میں ہے تو وہ حسیںپھر مجھے لے چلا وہیں، ذوقِ نظر کو کیا کروں

۳

شورشِ‌ عاشقی کہاں، اور مری سادگی کہاںحُسن کو تیرے کیا کہوں، اپنی نظر کو کیا کروں

۴

غم کا نہ دل میں‌ ہو گزر، وصل کی شب ہو یوں بسرسب یہ قبول ہے مگر، خوفِ سحر کو کیا کروں

۵

حال میرا تھا جب بتر، تب نہ ہوئی تمہیں خبربعد مرے ہوا اثر، اب میں‌ اثر کو کیا کروں

۶

دل کی ہوس مٹا تو دی، ان کی جھلک دکھا تو دیپر یہ کہو کہ شوق کی “بارِ دگر” کو کیا کروں

۷

حسرتِ نغز گو ترا، کوئی نہ قدرداں ملااب یہ بتا کہ میں ترے ، عرضِ ہنر کو کیا کروں

۳۳ / ۷۹