کلامِ حسرتردیف ن
نہ سہی گر انہیں خیال نہیں
۱
نہ سہی گر انہیں خیال نہیںکہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیں
۲
یاد انہیں وعدۂ وصال نہیںکب کیا تھا یہی خیال نہیں
۳
ایسے بگڑے وہ سن کے شوق کی باتآج تک ہم سے بول چال نہیں
۴
مجھ کو اب غم یہ ہے کہ بعد مرےخاطر یار بے ملال نہیں
۵
عفو حق کا ہے میکشوں پہ نزولریزش ابر برشگال نہیں
۶
ہم پہ کیوں عرض حال دل پہ عتابایلچی کو کہیں زوال نہیں
۷
سن کے مجھ سے وہ خواہش پابوسہنس کے کہنے لگے مجال نہیں
۸
دل کو ہے یاد شوق کا وہ ہنرجس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں
۹
آپ نادم نہ ہوں کہ حسرتؔ سےشکوۂ غم کا احتمال نہیں
۳۴ / ۷۹