کلامِ حسرتردیف ن

ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں

۱

ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیںپی لیں جو کہیں اب بھی در خورد معافی ہیں

۲

بیگار بھی ململ بھی گرمی میں شب فرقتکام آئیں گے جاڑے میں فردیں جو لحافی ہیں

۳

عقلوں کو بنا دے گا، دیوانہ جمال ان کاچھا جائیں گی ہوشوں پر آنکھیں وہ غلافی ہیں

۴

ہم شکر ستم کرتے ، کیوں شکوہ کیا ان سےآئین محبت کے شیوے یہ منافی ہیں

۵

جھوٹی بھی گورا تہی باقی بھی غنیمت ہےدو گھونٹ بھی ساقی سے مل جائیں تو کافی ہیں

۶

ہم ان کی جفا سے بھی راضی تھے مگر نا حقاب ہو کے وہ خود نادم سرگرم تلافی ہیں

۷

جدت میں ہے لاثانی حسرت کی غزل خوانیکیا طرفہ مطالب ہیں، کیا تازہ قوانی ہیں

۳۵ / ۷۹