کلامِ حسرتردیف و

حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو

۱

حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہوجب ہو ایسا تو علاج دل شیدا کیا ہو

۲

کثرت حسن کی یہ شان نہ دیکھی نہ سنیبرق لرزاں ہے کوئی گرم تماشا کیا ہو

۳

بے مثالی کے ہیں یہ رنگ جو باوصف حجاببے نقابی پر ترا جلوۂ یکتا کیا ہو

۴

دیکھیں ہم بھی جو ترے حسن دل آرا کی بہاراس میں نقصان ترا اے گل رعنا کیا ہو

۵

ہم غرض مند کہاں مرتبۂ عشق کہاںہم کو سمجھیں وہ ہوس کار تو بے جا کیا ہو

۶

دل فریبی ہے تری باعث صد جوش و خروشحال یہ ہو تو دل زار شکیبا کیا ہو

۷

رات دن رہنے لگی اس ستم ایجاد کی یادحسرتؔ اب دیکھیے انجام ہمارا کیا ہو

۳۷ / ۷۹