کلامِ حسرتردیف و
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھومجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنّا دیکھو
جرمِ نظارہ پہ کون اتنی خوشامد کرتااب وہ روٹھے ہیں لو اور تماشا دیکھو
دو ہی دن میں وہ بات ہے نہ وہ چاہ نہ پیارہم نے پہلے ہی یہ تم سے نہ کہا تھا دیکھو؟
ہم نا کہتے تھے بناوٹ سے ہے سارا غصّہہنس کے لو پھر انھوں نے ہمیں دیکھا دیکھو
مستیِ حسن سے اپنی بھی نہیں تم کو خبرکیا سنو عرض میری،حال میرا کیا دیکھو
گھر سے ہر وقت نکل آتے ہو کھولے ہوئے بالشام دیکھو نہ میری جان سویرا دیکھو
خانۂ جان میں نمودار ہے اک پیکرِ نورحسرتو آؤ رخِ یار کا جلوہ دیکھو
سامنے سب کے مناسب نہیں ہم پر یہ عتابسر سے ڈھل جائے نہ غصّے میں ڈوپٹہ دیکھو
مر مٹے ہم تو کبھی یاد بھی تم نے نہ کیااب محبّت کا نہ کرنا کبھی دعویٰ دیکھو
دوستو ترکِ محبّت کی نصیحت ہے فضولاور نہ مانو تو دلِ زار کو سمجھا دیکھو
سر کہیں،بال کہیں،ہاتھ کہیں،پاؤں کہیںاس کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو
اب وہ شوخی سے یہ کہتے ہیں ستمگر جو ہیںہمدل کسی اور سے کچھ روز بہلا دیکھو
ہوَسِ دل مٹی ہے نہ مٹے گی حسرتدیکھنے کے لیئے چاہو انہیں جتنا دیکھو
۳۸ / ۷۹