چہ کافرانہ قمار حیات می بازی

بدست ما نہ سمرقند و نے بخارا ایستدعا بگو ز فقیراں بہ ترک شیرازی

English translation

I have no Smarkand-o-Bukhara in hand, please pray for me to poet of this land (poet of Shiraz).

Translated by Q.A. Kabir

Word meanings

(حافظ شیرازی نے ایک شعر میں کہا تھا کہ اگر شیراز کا ترک (معشوق) میرے دل کو قبضے میں کر لے تو میں اس کے سیاہ تل کے بدلے میں اسے سمرقند اور بخارا شہر بخش دوں گا یا اس کے صدقے میں خیرات کر دوں گا۔) اقبال نے اس شعر سے یہ مضمون نکالا ہے کہ اگرچہ میرے ہاتھ میں سمرقند اور بخارا جیسے شہر نہیں ہیں مگر میں تو اس کے حق میں صرف دعا کر سکتا ہوں (یہاں اقبال کا معشوق مسلمان ہے)۔

About this couplet

This is couplet 6 of 6 in “⁨چہ کافرانہ قمار حیات می بازی⁩” (Che kafirana qamar hayat mein bazi) in the section The Amanuensis of Mullah Zaighum, from Allama Muhammad Iqbal's Urdu book Armaghan-e-Hijaz (⁨ارمغانِ حجاز⁩), published in 1938.

Read it in the poem

۶ / ۶