حکیمان گرچہ صد پیکر شکستند
حکیمان گرچہ صد پیکر شکستندمقیم سومنات بود و ہستندچسان افرشتہ و یزدان بگیرندہنوز آدم بہ فتراکی نبستند
English translation
Philosophers break idols in their wrath, but still are prisoners of Being’s Somnath.
They chase God and His angels. But how can they capture them? Have they yet captured man?
Translated by M. Hadi Husain
Urdu translation
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں ، لیکن وہ ابھی تک ہست و بود کے سومنات میں پڑے ہیں۔وہ فرشتے اور یزداں کو کیسے اپنے فکر کی گرفت میں لا سکتے ہیں، جب کہ انہوں نے ابھی تک آدم کو بھی اپنے فتراک میں نہیں باندھا (وہ آدم کی حقیقت نہیں مجھ سکے فرشتے اور یزداں کی حقیقت کو کیا سمجھیں گے۔
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “حکیمان گرچہ صد پیکر شکستند” in the section The Tulip of Sinai, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Payam-e-Mashriq (پیامِ مشرق), published in 1923.
Read it in the poem۱ / ۱