نہ در اندیشۂ من کار زار کفر و ایمانی

نہ در اندیشۂ من کار زار کفر و ایمانینہ در جان غم اندوزم ہوای باغ رضوانیاگر کاوی درونم را خیال خویش را یابےپریشان جلوہ ئی چون ماہتاب اندر بیابانی

English translation

Faith and infidelity fight not for the mind of me; no delights of Paradise do my stricken soul entice.
Cleave my heart and lay it bare, Thou shall find Thy image there, gleam pervasive, shadowless, moonlight on a wilderness.

Translated by A.J. Arberry

Urdu translation

نہ تو میرا ذہن کفر و ایمان کا کارزار ہے؛ اور نہ میری جان غم اندوز میں باغ رضوان کی خواہش ہے۔اگر آپ میرا اندرون کھودیں تو سوائے اپنے خیال کے اور کچھ نہیں پائیں گے جیسے ریگستان میں چاندنی پھیلی ہوتی ہے۔ (ریگستان میں چاندنی کا منظر بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ اللہ تعالے کے خیال کو چاندنی سے ٹشبیح دی ہے اور اپنے قلب کو ریگستان سے کیونکہ وہاں اور کچھ نہیں۔

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨نہ در اندیشۂ من کار زار کفر و ایمانی⁩” (na dar andisha-e man karzar-e kufr-o imani) in the section Part 1, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Zabur-e-Ajam (⁨زبورِعجم⁩), published in 1927.

Read it in the poem

۱ / ۱