نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں
زمانہ با امم ایشیا چہ کرد و کندکسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواندتو صاحب نظری آنچہ در ضمیر من استدل تو بیند و اندیشہ تو می داندبگیر ایں ہمہ سرمایہء بہار از من'کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند'
English translation
What Time has done or shall do with the East, none save a prince, like you, can know the least.
You own insight and what lies in my mind, is not too hard for you to ken and find.
Accept from me this treasure of spring tide, whose roses in your hand shall fresh abide.
Translated by Syed Akbar Ali Shah
Word meanings
زمانے نے ایشیا کی قوموں سے اب تک جو سلوک کیا اور کر رہا ہے ؛ کوئ نہ تھا جو یہ درد بھری داستاں تفصیل سے سنا سکتا ؛ آخر مجھی کو یہ فرض انجام دینا پڑا۔(حمید اللہ خان) تو صاحب نظر ہے اور تجھے خدا نے وہ ملکہ عطا کیا ہے کہ جو حقیقتیں میرے ضمیر کی گہرائیوں میں موجود ہیں ؛ تیرا دل انہیں دیکھ رہا ہے اور تیرا دماغ ان سے آگاہ ہے۔میں بہار کا یہ سرمایہ لایا ہوں تو اسے لے لے ، اس لیے کہ پھول تیرے ہاتھ میں دے دیا جائے تو وہ شاخ سے بھی زیادہ تر و تازہ اور شاداب رہتا ہے۔
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں” (To Nawab Sir Hamidullah Khan, Ruler of Bhopal) in the section Beginning, from Allama Muhammad Iqbal's Urdu book Zarb-e-Kalim (ضربِ کلیم), published in 1936.
Read it in the poem۱ / ۱