کلامِ جگرردیف الف
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
۱
دل کو سکون روح کو آرام آ گیاموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
۲
جب کوئی ذکر گردش آیام آ گیابے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا
۳
غم میں بھی ہے سرور وہ ہنگام آ گیاشاید کہ دور بادۂ گلفام آ گیا
۴
دیوانگی ہو عقل ہو امید ہو کہ یاساپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آ گیا
۵
دل کے معاملات میں ناصح شکست کیاسو بار حسن پر بھی یہ الزام آ گیا
۶
صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لےمیں آ گیا کہ سایہ تہ دام آ گیا
۷
دل کو نہ پوچھ معرکۂ حسن و عشق میںکیا جانیے غریب کہاں کام آ گیا
۸
یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کہ ان دنوںاکثر ترے بغیر بھی آرام آ گیا
۹
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔاب آفتاب زیست لب بام آ گیا
۷ / ۸۹