کلامِ جگرردیف الف
آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا
۱
آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میراکہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا
۲
سوز غم دیکھ نہ برباد ہو حاصل میرادل کی تصویر ہے ہر آئینۂ دل میرا
۳
صبح تک ہجر میں کیا جانیے کیا ہوتا ہےشام ہی سے مرے قابو میں نہیں دل میرا
۴
مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحتغم ہے اب جان مری درد ہے اب دل میرا
۵
پایا جاتا ہے تری شوخیٔ رفتار کا رنگکاش پہلو میں دھڑکتا ہی رہے دل میرا
۶
ہائے اس مرد کی قسمت جو ہوا دل کا شریکہائے اس دل کا مقدر جو بنا دل میرا
۷
کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مرے رہ رہ کراب خدا جانے تری یاد ہے یا دل میرا
۸ / ۸۹