کلامِ جگرردیف الف

ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا

۱

ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھاخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھا

۲

جستجو میں تری یہ حاصل سودا دیکھاایک اک ذرہ کا آغوش طلب وا دیکھا

۳

آئینہ خانۂ عالم میں کہیں کیا دیکھاتیرے دھوکے میں خود اپنا ہی تماشا دیکھا

۴

ہم نے ایسا نہ کوئی دیکھنے والا دیکھاجو یہ کہہ دے کہ ترا حسن سراپا دیکھا

۵

دل آگاہ میں کیا کہیے جگرؔ کیا دیکھالہریں لیتا ہوا اک قطرے میں دریا دیکھا

۶

کوئی شائستہ و شایان غم دل نہ ملاہم نے جس بزم میں دیکھا اسے تنہا دیکھا

۱۷ / ۸۹