کلامِ جگرردیف الف

ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا

۱

ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرناان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرنا

۲

ہاں کس کو ہے میسر یہ کام کر گزرنااک بانکپن سے جینا اک بانکپن سے مرنا

۳

جو زیست کو نہ سمجھیں جو موت کو نہ جانیںجینا انہیں کا جینا مرنا انہیں کا مرنا

۴

تیری عنایتوں سے مجھ کو بھی آ چلا ہےتیری حمایتوں میں ہر ہر قدم گزرنا

۵

ساحل کے لب سے پوچھو دریا کے دل سے پوچھواک موج تہ نشیں کا مدت کے بعد ابھرنا

۶

اے شوق تیرے صدقے پہنچا دیا کہاں تکاے عشق تیرے قرباں جینا ہے اب نہ مرنا

۷

ہر ذرہ آہ جس کا لبریز تشنگی ہےاس خاک کی بھی جانب اے ابر تر گزرنا

۸

دریا کی زندگی پر صدقے ہزار جانیںمجھ کو نہیں گوارا ساحل کی موت مرنا

۹

رنگینیاں نہیں تو رعنائیاں بھی کیسیشبنم سی نازنیں کو آتا نہیں سنورنا

۱۰

اشکوں کو بھی یہ جرأت اللہ ری تیری قدرتآنکھوں تک آتے آتے پھر دل میں جا ٹھہرنا

۱۱

اے جان ناز آ جا آنکھوں کی راہ دل میںان خشک ندیوں سے مشکل ہو کیا گزرنا

۱۲

ہم بے خودان غم سے یہ راز کوئی سیکھےجینا مگر نہ جینا مرنا مگر نہ مرنا

۱۳

کچھ آ چلی ہے آہٹ اس پائے ناز کی سیتجھ پر خدا کی رحمت اے دل ذرا ٹھہرنا

۱۴

خون جگر کا حاصل اک شعر تر کی صورتاپنا ہی عکس جس میں اپنا ہے رنگ بھرنا

۱۸ / ۸۹