کلامِ جگرردیف ت
سینے میں اگر ہو دل بیدار محبت
سینے میں اگر ہو دل بیدار محبتہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبت
وہ بھی ہوئے جاتے ہیں طرفدار محبتاچھے نظر آتے نہیں آثار محبت
ہشیار ہو اے بے خود و سرشار محبتاظہار محبت! ارے اظہار محبت
تا دیر نہ ہو دل بھی خبردار محبتاک یہ بھی ہے انداز فسوں کار محبت
توہین نگاہ کرم یار کہاں تکدم لینے دے اے لذت آزار محبت
سب پھونک دیئے خار و خس مذہب و ملتاللہ رے یک شعلۂ رخسار محبت
کونین سے کیا اہل محبت کو سروکارکونین ہے خود حاشیہ بردار محبت
جو عرش کی رفعت کو بھی اس در پہ جھکا دےایسا بھی کوئی جذبۂ سرشار محبت
میں نے انہیں تاریک فضاؤں میں بھی اکثردیکھے ہیں برستے ہوئے انوار محبت
ناصح کو ہے کیوں میری محبت سے سروکارچہرے سے تو کھلتے نہیں آثار محبت
میں اور یہ نمکین غم عشق ارے توبہتو اور یہ احساس گراں بار محبت!
اب عرض محبت کی جگرؔ کیوں نہیں جرأتوہ سامنے ہیں گرم ہے بازار محبت
۱۹ / ۸۹