کلامِ جگرردیف ی
یاد
آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئیہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی
ہر منظر جمال دکھاتی چلی گئیجیسے انہیں کو سامنے لاتی چلی گئی
ہر واقعہ قریب تر آتا چلا گیاہر شے حسین تر نظر آتی چلی گئی
ویرانۂ حیات کے ایک ایک گوشہ میںجوگن کوئی ستار بجاتی چلی گئی
دل پھنک رہا تھا آتش ضبط فراق سےدیپک کو مے گسار بناتی چلی گئی
بے حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدارگ رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئی
جتنا ہی کچھ سکون سا آتا چلا گیااتنا ہی بے قرار بناتی چلی گئی
کیفیتوں کو ہوش سا آتا چلا گیابے کیفیوں کو نیند سی آتی چلی گئی
کیا کیا نہ حسن یار سے شکوے تھے عشق کوکیا کیا نہ شرمسار بناتی چلی گئی
تفریق حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہاتمئیز قرب و بعد مٹاتی چلی گئی
میں تشنہ کام شوق تھا پیتا چلا گیاوہ مست انکھڑیوں سے پلاتی چلی گئی
اک حسن بے جہت کی فضائے بسیط میںاڑتی گئی مجھے بھی اڑاتی چلی گئی
پھر میں ہوں اور عشق کی بیتابیاں جگرؔاچھا ہوا وہ نیند کی ماتی چلی گئی
۵۱ / ۸۹