کلامِ جگرردیف ے

سب پہ تو مہربان ہے پیارے

۱

سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارے

۲

آ کہ تجھ بن بہت دنوں سے یہ دلایک سونا مکان ہے پیارے

۳

تو جہاں ناز سے قدم رکھ دےوہ زمین آسمان ہے پیارے

۴

مختصر ہے یہ شوق کی رودادہر نفس داستان ہے پیارے

۵

اپنے جی میں ذرا تو کر انصافکب سے نامہربان ہے پیارے

۶

صبر ٹوٹے ہوئے دلوں کا نہ لےتو یوں ہی دھان پان ہے پیارے

۷

ہم سے جو ہو سکا سو کر گزرےاب ترا امتحان ہے پیارے

۸

مجھ میں تجھ میں تو کوئی فرق نہیںعشق کیوں درمیان ہے پیارے

۹

کیا کہے حال دل غریب جگرؔٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے

۶۱ / ۸۹